ولی رام ولبھ۔۔۔

سندھی سے ترجمہ: اجمل کمال۔۔۔

وہ اکثر اسی طرح دیکھتی رہتی ہے۔ آنکھوں میں پانی بھر آتا ہے اور پھر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ بہت ہوا تو چنری کے پلو سے آنکھیں پونچھ کر ٹھنڈا سانس بھرتی ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ کر بھی تو نہیں سکتی۔

آنگن سے آگے بر امدے میں پلنگ پر لیٹا ہوا پپو، اور اس کے قریب تپائی پر شیشیاں، گلاس اور پیالیاں—یہ سب اسے باورچی خانے سے نظر آ رہا ہے۔ جب دوسرے بچے کھا پی کر اسکول چلے جاتے ہیں اور وہ اکیلی بیٹھی ہوتی ہے تو زینو کے نہ ہونے کا احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ان گنت سوچیں گِدھوں کی طرح اس کے دماغ کے ارد گرد چکر لگا لگا کر شور مچاتی رہتی ہیں—اور اسے لگتا ہے کہ کہیں وہ پاگل نہ ہو جائے۔

ابھی پرسوں جب اسے پتا چلا کہ پپو نے محلے کے ایک گھر سے پیسے چرائے ہیں تو دل کی عجیب کیفیت ہو گئی تھی۔ نہ اسے پپو پر غصہ آیا، نہ محلے والوں سے شکایت کرنے گئی۔ بس سر پکڑ کر بیٹھی رہ گئی تھی —چپ چاپ۔

اور جب آج صبح اسے معلوم ہوا کہ انو کل کلاس سے بھاگ کر فلم دیکھنے چلا گیا تھا تو اس کی پھر وہی حالت ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے آنکھوں میں پپو کا چہرہ چھایا ہوا تھا کہ پھر محلے کے منو کا چہرہ ابھر آیا۔

’’دیکھو ماسی، میں تو صرف اس لیے کہتا ہوں کہ کہیں اسے عادت نہ پڑ جائے، بس۔ ورنہ کہتا بھی نہیں۔ اور دیکھو، زیادہ غم نہ کرنا۔ اس عمر میں یہی ہوتا ہے۔‘‘

اس کے اپنائیت بھرے لہجے کی چبھن اسے اپنے اندر محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے منو کے سامنے خود کو روکنے کی بہت کوشش کی، لیکن پھر بھی…

’’نہیں بیٹے! ہم یہی سب بھوگنے کے لیے تو ہیں۔ ہمیں تو یہ سہنا ہی پڑے گا… ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے۔‘‘

منو ہکابکا رہ گیا۔ پھر کہنے لگا، ’’اچھا ماسی، میں چلتا ہوں۔ کالج کو دیر ہو رہی ہے۔ پھر آؤں گا۔‘‘

اس کے جانے کے بعد ایک دم گھٹن اور خاموشی چھا گئی، بالکل ویسی کاٹ کھانے والی خاموشی جیسی کھٹکے کے بعد چھا جاتی ہے۔ اس وقت وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ اسے رہ رہ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سارا گھر اس کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے، یا ہو چکا ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی، کچھ بھی نہیں۔ زینو، انو، پپو، نازو—اور ان سب کے بیچ میں وہ۔

اس کے باوجود وہ اس بارے میں اپنے شوہر سے بہت کم بات کرتی ہے۔ یہ سب کچھ خود سہنے کی کوشش میں لگتا ہے کہ وہ ہانپنے لگی ہے۔

لیکن وہ کہے بھی کیونکر؟ اسے معلوم ہے کہ وہ نو بجے سے بھی پہلے گھر سے نکلتا ہے اور کہیں شام کو چھ بجے اس کی صورت نظر آتی ہے، تب مہینے میں کہیں ساڑھے چار سو روپے ملتے ہیں۔ اگر اوورٹائم نہ کرے تو بیس دن بھی نہ نکلیں۔ اس کا ذہن ویسے ہی تھکن اور الجھن میں ہوتا ہے، اگر وہ یہ سب رونا رونے بیٹھ جائے تو شاید وہ اس سے بھی پہلے پاگل ہو جائے۔ پھر اسے لڑائی جھگڑے کی بالکل سہار نہیں، کوئی ایسی ویسی بات ہو جائے تو ایک دم آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ پچھلے ہفتے انو کو کتنا مارا تھا۔ وہ تو نہ جانے کس طرح خود ہی رحم آ گیا، اور اس کے بعد پشیمانی میں کتنے ہی دن بولنا چھوڑ دیا تھا اور منھ ہی منھ میں کچھ بڑ بڑاتا رہتا تھا۔

وہ ابھی کھانا کھا کر سوچوں میں گم تھی کہ پپو نے پانی مانگا۔ تب وہ چونکی۔ پھر اٹھ کر ہاتھ دھوئے اور پپو کے پاس آ کر اسے پانی پلایا اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔ پپو نے آنکھیں موند لیں۔

آنگن میں آ کر اس نے کپڑوں کا ڈھیر دیکھا تو سستی چھانے لگی۔ آرام کرنے کی خواہش نے سر ابھارا۔ لیکن ابھی تو بہت کام پڑا ہے— برتن مانجھنے ہیں، کپڑے دھونے ہیں، پپو کو موسمی کا رس پلانا ہے، تب کہیں سکھ کا سانس نصیب ہو گا۔ یہ سوچ کر وہ نل کے آگے برتن اکٹھے کر کے دھیرے دھیرے انھیں دھونا شروع کرتی ہے۔ اچانک اسے وہ بڑھیا یاد آتی ہے جو کئی سال پہلے برتن مانجھنے آیا کرتی تھی — صرف پانچ روپے اور روٹی، اور برتنوں کا ڈھیر! اب تو کوئی پچاس سے کم بات بھی نہیں کرتا۔ ایسی باتیں سوچ کر اسے اپنی تنگدستی پر بڑی بےچینی ہوتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ تھکی ہوئی ہو۔ لیکن اسے پتا ہے کہ اور کوئی راستہ بھی تو نہیں، اس لیے سوچنا بیکار ہی لگتا ہے۔

برتن مانجھنے کے بعد وہ ایک گہرا سانس لیتی ہے جیسے کہہ رہی ہو، چلو کچھ تو بوجھ کم ہوا۔ پھر سستی چھانے لگتی ہے تو پھر دل کو سمجھاتی ہے: بس کپڑے ہی تو رہ گئے ہیں، دھو لوں تو پھر آرام سے لیٹ جاؤں گی۔

وہ بالٹی لا کر پانی بھرتی ہے اور سانس روک کر اٹھتی ہے۔ اسے کچھ تعجب ہوتا ہے، اس عمر میں ایسی تھکن—پینتیس برس بھی کوئی عمر ہے۔ لیکن کچھ بھی کرنے کو اس کا دل نہیں چاہتا۔ پتا نہیں کس بل پر مشین کی طرح سب کچھ کرتی جاتی ہے… کرتی رہتی ہے۔ لیکن وہ مشین تو نہیں ہو سکتی۔

کپڑوں میں زینو کی قمیض بھی آ گئی دھلنے کے لیے۔ کپڑے دھوتے دھوتے جب زینو کی قمیض ہاتھ میں آئی تو آنکھیں بھر آئیں۔ گھر سے چلے جانے سے پہلے اس نے یہی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس پر اس نے اپنی آنکھیں پھوڑ کر کڑھائی کی تھی۔ جب زینو نے اسے پہنا تو سب محلے والے دیکھتے رہ گئے۔’’قمیض کیسی سج رہی ہے۔ جیسی بیٹی ہے ویسی ہی پیاری قمیض بنائی ہے تم نے۔‘‘ بس نظر لگ گئی۔ گیلی قمیض دونوں ہاتھوں سے بھینچ کر چھاتی سے لگاتی ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ بند آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈنے لگتا ہے اور گیلی قمیض سے پانی۔ وہ کچھ دیر اسی طرح بیٹھی رہتی ہے۔ اس کے کانوں میں زینو کے الفاظ گونجتے ہیں۔ جب وہ کپڑا لے کر آئی تھی تو زینو نے کہا، ’’اماں، رنگ تو نہیں چھوٹے گا؟ لگتا ہے کچا ہے۔‘‘ پھر وہ قمیض پر پانی ڈال کر اسے دھونے لگتی ہے۔اس کا رنگ پہلے سے بھی زیادہ نکھر آتا ہے۔

سوچ کی کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے۔ عید قریب آ رہی ہے، انو، پپو اور نازو کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔ وہ کہتا تھا، بڑی مشکل سے پچاس ساٹھ روپے بچے ہیں، احتیاط سے خرچ کرنا۔ سوچتی ہے کہ وہ تو پیسے دے کر آزاد ہو گیا، مصیبت میں میں پڑ گئی—اب میں کیسے کروں؟

کپڑے پھیلا کر پپو کے پلنگ کے پاس بیٹھ کر موسمی کا رس نکالنے لگتی ہے۔ پپو کے زرد چہرے اور کمزور جسم پر نگاہ پڑتی ہے تو دل ڈوبنے لگتا ہے اور اسے گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔

’’پپو تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ، تو پھر عید پر اچھی اچھی مٹھائیاں…‘‘ پھر اچانک اپنی غلطی محسوس کر کے وہ چپ ہوجاتی ہے۔

’’سویاں بھی پکیں گی نا اماں؟ مجھے بھی ملیں گی نا؟‘‘ اس کی آواز کا لگاؤ اس کا دل چھو لیتا ہے۔ بیماری میں سب بچے ایسا ہی کہتے ہیں، وہ سوچتی ہے۔

’’ہاں ہاں، اپنے بیٹے کو کیوں نہیں دوں گی۔‘‘

پیالی سے رس پلا کر وہ اس کا بستر ٹھیک کرنے لگتی ہے۔ پھر قریب ہی کھڑا دوسرا پلنگ بچھا کر بغیر بستر کے لیٹ جاتی ہے اور ٹھنڈا سانس لیتی ہے۔ اس کی آنکھیں سامنے فریم کیے ہوے گروپ فوٹو پر جم جاتی ہیں۔ یہ فوٹو زینو نے پچھلے سال میٹرک کے امتحان سے پہلے اسکول سے رخصت پر فیئرویل کے موقع پر کھنچوایا تھا۔ اسے یاد آیا کہ جب زینو یہ فوٹو فریم کرا کے گھر لائی تھی تو اس نے کہا تھا، ’’اماں جب میں تمھارے پاس نہیں ہوں گی تو یہ فوٹو تمھیں اور سب کو میری یاد دلائے گا۔‘‘ گروپ فوٹو میں زینو مسکرا رہی تھی، اور اس کی ماں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

زینو جب میٹرک میں پاس ہوئی تو محلے والوں سے لے کر رشتے داروں تک سب کو حیرت ہوئی کہ وہ کس طرح پاس ہو گئی، اور وہ بھی فرسٹ ڈویژن میں! اس کا سر اونچا ہو گیا تھا۔ مگر اب کے تو اس نے ناک ہی کٹوا دی۔ کسی کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ پھر وہ سوچتی ہے: اس میں اس کا کیا قصور؟ اسے وہ راتیں یاد آتی ہیں جب زینو کرسی پر بیٹھی پڑھتے پڑھتے صبح کر دیتی تھی۔ رات کو جب اس کی آنکھ کھلتی تو اسے بتی کی روشنی میں کتابوں پر سر جھکائے پڑھنے میں محو دیکھتی تھی۔ وہ کہا کرتی، ’’بیٹی زینو، اب سو جا، رات بہت ہو گئی ہے، کہیں طبیعت…‘‘

مگر وہ جواب دیتی، ’’بس اماں، تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ ابھی سوتی ہوں۔‘‘ وہ کروٹ بدل کر سو جاتی تھی۔

اب وہ کرسی خالی پڑی ہے—جیسے ابھی زینو آئے گی اور اس پر بیٹھ کر پڑھنے لگے گی۔ کتاب اس کے سامنے کھلی ہو گی۔ زینو کی تلاش میں اس کی نظریں اس کے پلنگ کی طرف جاتی ہیں لیکن وہ بھی خالی پڑا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ابھی زینو اس پر آ کر سوئے گی۔ وہ آنکھ جھپکتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہی ہے۔ وہ سوچنے لگتی ہے کہ ان باتوں میں کیا رکھا ہے؟ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ کسی کا کسی پر کیا بس چلتا ہے۔ حالات آزاد ہیں۔ میرا تو کسی پر کوئی بس نہیں۔ میرا حالات پر بھی بس نہیں۔ اپنے آپ پر بھی نہیں رہا شاید! یہ سوچ کر اسے تسکین سی ہوتی ہے۔ گھڑی پر نگاہ پڑتی ہے تو اس کا سانس آہستہ آہستہ کھنچنے لگتا ہے: دو بجے ہیں۔ کچھ دیر میں بچوں کے آنے کا وقت ہو جائے گا۔

وہ آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرتی ہے لیکن نیند اس سے کوسوں دور ہے۔ سوچوں کے ہجوم اور یادوں سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ ماضی اور مستقبل کے دروازوں پر زنجیر لگانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسے لگتا ہے کہ یہ دروازے کھڑکھڑاتے رہیں گے۔ وہ تنہائی سے بچنے کی خاطر پرانے اخبار کے صفحے الٹنے لگتی ہے لیکن نظر نہیں جمتی۔ اسے لگتا ہے جیسے زندگی اس سے ہاتھ چھڑا کر چلی گئی ہو، اور وہ زندگی کے فوکس سے باہر رہ گئی ہو۔

(آج – پہلی کتاب – اشاعت: ۱۹۸۱)

Share
0