اسد محمد خاں۔۔۔

بہت بلندی سے ایک پہاڑی اترتی ہے۔
جس طرح مسجدِ جامع کی دھلی دھلائی سیڑھیاں متانت کے ساتھ قاضیِ شہر کے پاپوش چومتی ہوئی، نیچے عامتہ الناس کی دھواں لپٹی دنیا میں اتر رہی ہوں۔
ٹھیک اسی طرح ایک پہاڑی اترتی ہے۔
تو شام کے جھٹپٹے میں اور کبھی دھند میں شاید کئی لاکھ فیٹ کی بلندی سے ایک پہاڑی، کبھی ہلکے کبھی گہرے بادلوں والے آسمان سے ساون کی دو تین سو نیرجھروں کی انگلی تھامے قدم قدم اترتی ہے اور تال کے کنارے جا پہنچتی ہے، اور ساون کا یہ جلوس باون گنگا کہلاتا ہے۔ اور جو گنتی کرنے بیٹھو تو ان گنگاؤں کی تعداد باون نہیں رہتی، دو تین سو سے اوپر پہنچ جاتی ہے۔ مگر ساون میں گن کون سکتا ہے، یہ تو بےحسابی کی رت ہے۔
تو یہ کئی سو گنگائیں نیچے پہنچ کر ایک بارہ ماسی تال بناتی ہیں جس کی سطح سنگھاڑے کی بیلوں سے اور جل کمبھی سے اور تین قسم کے کنول سے ڈھکی رہتی ہے۔تال میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹاپو ہیں جو آدمی کے قد جتنی اونچی، گہرے ہر ے رنگ کی، چکنے تکونے ڈنٹھل والی آبی گھاس پہنے رہتے ہیں۔ اس گھاس کے ڈنٹھل اس قدر چکنے، اتنے آبدار اور لچکدار ہیں کہ لگتا ہے اندرونی آرائش کرنے والوں کی سہولت کے خیال سے انھیں ٹھوس نائیلون سے بنایا گیا ہے اور یہ کوئی بہت پائدار، واشِبل قسم کی آرائشی چیز ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ یہ ڈنٹھل کسی سخت گیر اسکول ماسٹر کی لہراتی ہوئی چھڑیاں ہیں جن کے سروں پر ماسٹر نے سجاوٹ کے لیے چار چار پانچ پانچ شاخوں والے طرّے لگا رکھے ہیں۔ ان شاخوں سے پور پور برابر پتلی لوزینجز کی شکل کی سخت ہری پتیاں چپکی ہوتی ہیں، جیسے کنکھجورے کے بدن سے اس کی ہزاروں بےچین ٹانگیں چپکی ہوں۔ اور جس وقت یہ آبی گھاس بھیگی ہوئی ہوا کے ساتھ لہرا رہی ہوتی ہے تو بےخیالی میں یادیں اس کی تمام لہروں کے خطوطِ حرکت کو خود پر نقش کر لیتی ہیں اور پتا بھی نہیں چلتا اور تیس چالیس برس گزر جاتے ہیں۔ پھر اچانک ایک ایک لہر اقلیدسی اشکال میں خود کو دُہراتی آتی ہے اور آنکھوں کی پتلیوں کے پیچھے بجلیاں سی کوندنے لگتی ہیں۔
تو یہ سارے ٹاپو اس آبی گھاس سے پٹے پڑے ہیں۔ اور یہ آبی گھاس کبھی پیلی نہیں پڑتی، سدا ہری بھری رہتی ہے اس لیے کہ ساون رہے نہ رہے، تال کے اس دور دراز حصے میں بھی کمر کمر پانی تو سارے سال ہی رہتا ہے، پھر یہ ہری ہری پتیاں اور ہرے ڈنٹھل کاہے کو پیلے پڑنے لگے۔ سارے سارے سال ٹاپوؤں کے یہ ماسٹر سڑک پر چلنے والے اکادکا مسافر کو چھڑیاں لہرا لہرا کر دھمکاتے رہتے ہیں، کہ گھن گرج کے ساتھ دوبارہ ساون آ جاتا ہے۔ساون میں یہ ٹاپو ایک دم گھونٹ دینے والی تیز سبز بو اچھالتے ہیں جو مچھلیوں کے جیتے جیتے سرخ گلپھڑوں سے گزرتی ہوئی ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور قریب کے راہگیروں کو (ٹب میں بیٹھے ہوے شریر بچوں کی طرح) شرابور کر دیتی ہے۔
شام گہری ہوتے ادھر سے کم ہی لوگ گزرتے ہیں۔ وہ شاید گہرے ہرے رنگ کے اس اندھیرے سے خوف کھاتے ہوں گے یا شاید وہ اپنی یادوں کو زیادہ تندوتیز چیزوں سے بھرنا نہیں چاہتے — وہ ہلکے پھلکے رہتے ہوے جینا چاہتے ہیں— مگر کیا ہلکے پھلکے رہتے ہوے جینا ممکن ہے؟
میں نے تال کنارے ایک اجڑی ہوئی اَمرائی کو بھرپور ساون میں بھی، سب قصوں قضیوں، سب چیزوں سے الگ تھلگ پڑے دیکھا ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہلکے پھلکے رہتے ہوے جینا کیسے ممکن ہے۔ یہ امرائی تال میں، اور تال کے آس پاس اور پہاڑی پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے الگ تھلگ اور اس کے بیچوں بیچ موجود ہے اور دھیرے دھیرے مرتی جا رہی ہے۔
یوں ہے کہ تال کے بائیں کنارے سے جو ایک چھوٹی سی مسکین پہاڑی اٹھتی ہے اور باون گنگاؤں والی پہاڑی کی دُسراتھ کے خیال سے کچھ دور چلتی ہوئی پھر ہموار سطحِ مرتفع میں گم ہو جاتی ہے (جیسے بیاہ میں آئے ہوے پڑوسی دعا سلام کے بعد رشتے ناتے والوں سے ذرا ہٹ کر ایک طرف کو جا بیٹھیں)۔ تو پہاڑی کی گود میں یہ چھوٹی سی امرائی پڑی ہے اور یہ دھیرے دھیرے مرتی جا رہی ہے۔ سو دو سو برس پہلے یہاں آم کے بےگنتی پیڑوں پر بےحساب طوطے اور کوئلیں اکٹھا ہوتے اور پکار کرتے تھے۔ اب سناٹا رہتا ہے۔ گنتی کے دس بیس بوڑھے گنجے درخت بکریوں کے ریوڑ سنبھالے بظاہر سکون سے کھڑے رہتے ہیں۔ جہاں اب مینگنیوں کی بچھات بچھی ہے کبھی مست مہک والے آموں کا بور فرش کیے رہتا تھا اور درختوں تلے اُگی ہوئی کمزور ہری گھاس پر چمکیلے دھاری دار گاؤن پہنے گلہریاں دوڑ لگاتی تھیں، بھورے کوٹ والے لنگور اُدھم کرتے تھے اور چالاک گرگٹ پل پل میں لباس بدلتے تھے۔ یہ سب اب اوپر چلے گئے ہیں، کہ اوپر اب بھی سیتاپھلوں کے ٹیڑھے میڑھے درختوں کے بیچ میٹھے کروندوں اور اچاروں کی جھاڑیاں ہیں اور تیز بسنتی رنگ میں رنگے ہوے شہد بھرے قمقموں کے جھابے اٹھائے تیندو کے درخت کھڑے ہیں اور بیل کے تناور پیڑ ہیں جو میٹھی مٹی کے میٹھے پھلوں کے درمیان سنتریوں کی طرح اپنی موجودگی کا یقین دلاتے ہوے چھوٹی پہاڑی پر چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اور پھولوں میں املتاس ہے اور ٹیسو ہے اور گیندے کی جھاڑیاں ہیں اور اس چھوٹی پہاڑی پر بکھرے ہوے برسہابرس کی دھوپ کھائے، کروڑوں برساتیں جھیلے، ٹیڑھے ترچھے پتھروں کو سرکا سرکا کر قیمتی ایلوویئل مٹی نے پیوند لگا دیے ہیں جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی اگنے لگتا ہے۔ جہاں جہاں مٹی کا جس کمزور پڑجاتا ہے وہاں بھربھری مٹی میں خرگوشوں کے قبیلے سرنگیں کھود لیتے ہیں اور سیہہ کا اکا دکا خاندان اپنا بھٹ بنا لیتا ہے اور رات گئے اپنی سیلولائڈ کی زرہ بکتریں پہن کر گھومنے نکلتا ہے تو اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ پھر سطحِ مرتفع پر بنے ہوے گھروں سے بھیگی ہوئی ہوا میں سوں سوں کرتے ہوے بہت سے بچے اترتے ہیں اور یہ سیلولائڈ کی قلمیں اکٹھی کرتے ہیں اور اپنے دفتی کے ڈبوں میں سنبھال کر رکھ دیتے ہیں کہ تیس چالیس برس بعد وہ انھیں اپنی پلکوں سے چنیں گے اور تیس چالیس برس پرانی بھیگی ہوئی ہوا میں سوں سوں کریں گے۔
اور سیاہ ایلوویئل مٹی کے پیوندوں میں گومچی کے نیم قد درخت بیٹھے اپنی مالاؤں کے سیاہ وسرخ ناسُفتہ منکے بکھیرتے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس تیز ہرے گردوپیش میں ان کا لایا ہوا سرخ اور ان کا لایا ہوا سیاہ بھی چمکتا رہے۔
تو بےشمار چمکیلے رنگوں کا یہ طوفان چھوٹی مسکین پہاڑی پر آیا ہوا ہے جس کی گود میں سب سے بےتعلق یہ مرتی ہوئی امرائی پڑی ہے۔ اور چھوٹی مسکین پہاڑی باون گنگاؤں والی وِشال پہاڑی کی بازگشت ہے کہ اس کے پہلو سے آکار کہتی ہوئی اٹھی ہے۔ اور اس آکار کو گلہریاں اور لنگور اور گرگٹ اور خرگوشوں کے قبیلے اور سیہہ کا اکادکا خاندان اور بھیگی ہوئی ہوا میں سوں سوں کرتے ہوے بچے ہی سن سکتے ہیں۔ اور باون گنگاؤں والی پہاڑی ملہار ہے، اور میگھ راج کے پُرشور رتھ میں جتے ہوے گھوڑوں کی گردنوں کو چومتا ہوا جب دامِنی کا کوڑا لشکتا ہے تو یہی وشال پہاڑی ایک بھینکر روپی راگنی ہے جسے رونگٹے کھڑے کر دینے والی وحشی مسرت کے ساتھ تال کے کمرکمر پانی میں کھڑا ہوا یہ آدمی سن رہا ہے۔
یہ سنتا جاتا ہے کہ اس کی بند آنکھوں کی پتلیوں کے پیچھے سمرتیوں کی بجلیاں کوند رہی ہیں۔
تو یہ آدمی ہے، سؤر نہیں ہے۔
سو اس آدمی کو ہاتھ پکڑ کر ٹاپوؤں کی سنگت سے اور سنگھاڑے کی بیلوں اور جل کمبھی کی سنگت سے اور تین قسم کے کنول کی سنگت سے کھینچ لو۔
کہ سننے والوں اور سؤروں کے درمیان تم اپنا فیصلہ سنا چکے ہو۔
سو اسے ہاتھ پکڑ کر کھینچ لو، اور اُس دوسرے کو، اُس سؤر کے تخم کو لے آؤ جو ناک پر رومال رکھے امرائی میں دبکا بیٹھا ہے۔ یہ دوسرا اپنے بل ڈوزر اور ارتھ موور اور کلھاڑے اور چھینیاں لے کر آئے گا، اور تین سو نیرجھروں کو روک دے گا، ایک نقلی آبشار بنائے گا اور تال کنارے ٹاپوؤں کی ہری ہری گھاس کھینچ کر وہاں سیمنٹ کے بلاک جڑ دے گا، اور کرائے کے موٹربوٹ چلائے گا۔ پھر سنگھاڑے کی بیلوں پر اور جل کمبھی پر، اور تین قسم کے کنول پر سگریٹوں کے بٹ، کاغذ کے گندے رومال اور استعمال شدہ ربر پھینکے جائیں گے اور چھوٹی مسکین پہاڑی پر چونے سے نقشے بننا شروع ہوں گے اور گلہریاں اور لنگور اور رنگین لباسوں والے گرگٹ اور روئی کے دھنکے ہوے خرگوش اور سیہہ اور سوں سوں کرتے ہوے سب بچے پہاڑی سے چلے جائیں گے اور چمکیلے رنگوں والی پہاڑی کی آکار ڈوب جائے گی… بس فلش ٹینکوں کی غراہٹیں رہ جائیں گی، کہ ٹرمپٹ کی آخری سانسوں تک سنی جا سکیں گی۔

aaj-first-book

Share
0