آج اعلان کا دن ہے۔

اپنی محبت کا اعلان، اور اپنی نفرت کا ، اور اس بات کا اعلان کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں، اور اس بات کا کہ وابستگی اور مزاحمت اس زمین پر محبت اور نفرت کے نائب ہیں۔

اس طرح ایک دریا کے کنارے قائم ایک چھوٹے مگر بامعنی شہر سے شائع ہونے والی یہ کتاب محض نظم و نثر کا مجموعہ نہیں بلکہ محبت اور نفرت کا ایک اعلان نامہ بھی ہے۔ اس میں آپ ہمارے آج کے ادب کے بعض اہم رجحانات کا کراس سیکشن دیکھ سکتے ہیں، لیکن اصرار اس پر نہیں۔ اصرار اس کُل پر ہے جس کا موزائیک یہ اور دوسرے رجحانات مل کر بناتے ہیں، اور جو اس آج کا منظرنامہ ہے جس میں ہم اور آپ جیتے ہیں۔

یہ بدگمانی آرٹ کی توہین ہے کہ وہ اپنے زمان ومکاں سے اوپر اٹھ کر اس کی سمت متعین کرنے کا امکان نہیں رکھتا، لیکن اس کی مثالیں اتنی کم ہیں کہ انھیں مستثنیات میں شمار کرنا چاہیے۔عام طور پر اس کا مائیکروسٹرکچر کسی ایک صورت حال میں سانس لیتے ہوے چھوٹے بڑے لوگوں کے دنوں اور راتوں، دکھوں اور خوشیوں، اندیشوں اور خوابوں کا تانابانا ہی ہوتا ہے۔ آرٹ کا کوئی بھی رجحان معاشرے میں موجود کسی لہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ہمارا آرٹسٹ ایک فحش صورت حال میں زندہ رہنے کے عذاب میں مبتلا ہے۔ یہ عذاب اور اس کا ردعمل ہمارے آج کے آرٹ کا بنیادی مٹیریل ہے۔ اگر اس میں غصہ، فردیت پسندی، ایبسرڈٹی اور نی ہی لزم ہے تو یقیناً ہمارے گردوپیش میں اس کا جواز موجود ہو گا۔

آج کی حدیں سیّال ہیں، اور آج کا ادب کسی رجمنٹیشن کو روا نہیں رکھتا۔ 1936 میں شروع ہونے والی ترقی پسند ادب کی تحریک اپنے امکانات پورے کر کے ختم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی اس کی عائد کردہ ملامتیں اور اس کے بخشے ہوے اعزاز بھی اب بےمعنی ہو گئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آج آپ بڑے سے بڑے قدامت پرست، مصلحت اندیش اور کنفارمسٹ کو مہالکشمی کے بائیں کنارے پر پا سکتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج کی صورت حال کا شعور اب کسی تحریک کا محتاج نہیں رہا؛ یہ اب ہماری زندگیوں میں شامل ہے، اور یقیناً اس میں اس تحریک نے بھی اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ مجرد جدیدیت کا زور بھی اب ٹوٹ چکا ہے۔ دنیا کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں اس کی تقدیر کے بارے میں اب کسی اختلاف کی گنجائش نہیں۔ دکھ اور خوف کی وارث خلقت انجمنوں، تحریکوں، اکادمیوں اور کانفرنسوں سے دور اس شعور کو بسر کر رہی ہے۔ وہ ادب سے بےنیاز ہے، اگر چہ ادب اس سے بےنیاز نہیں رہ سکتا۔

ہم لوگ اپنے جیسے دیسوں کے اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ اِنٹی گریشن کے عمل میں ہیں، اور ہمارا ادب ان کے ادب کے ساتھ۔ ہم ایک جیسی تقدیر لے کر پیدا ہوے ہیں اور اس تقدیر سے لڑنے کے لیے ہمارے ہتھیار بھی ایک جیسے ہیں۔ ایک ہی لہو ہے جو ہماری رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے اور ان کی آنکھوں سے ٹپکتا ہے۔ آج لہو کے اس رشتے سے آنکھ ملانے کا دن ہے۔

ہمکاری کا یہی رشتہ آج کے ادب کی فارمز کے مابین بھی ہے۔ نئی شاعری اور نئی کہانی اس کا پتا دیتی ہیں کہ فارمز ایک دوسرے میں اپنی حدیں کم کر کے کسی بڑی فارم کی جستجو میں ہیں۔

یہ آج ہے۔ یہ آپ سے انتخاب کا مطالبہ کرتا ہے۔ آپ اس کے سامنے آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ یا پھر کر سکتے ہیں۔

— اجمل کمال

(آج – پہلی کتاب – اشاعت: ۱۹۸۱)